بنگلورو، 2؍نومبر(ایس او نیوز) رام نگرم اسمبلی حلقے سے بی جے پی امیدوار چندر شیکھر کے آخری لمحوں میں میدان سے ہٹ جانے کا معاملہ ہوسکتا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ بی ایس یڈیورپا کے گلے کی ہڈی بن جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ چندر شیکھر کو بی فارم دینے سے پہلے ہی متعدد بی جے پی لیڈروں نے یڈیورپا کو متنبہ کیا تھا کہ وہ رام نگرم حلقے سے چندر شیکھر کو میدان میں اتارنے کے فیصلے پر نظر ثانی کریں کیونکہ ان لوگوں نے اسی وقت یہ خدشہ ظاہر کردیاتھاکہ چندر شیکھر آخر لمحوں میں پارٹی کے ساتھ دغا کرسکتے ہیں۔ان خدشات کے عین مطابق چندر شیکھرنے انتخابات سے 48 گھنٹے پہلے ہی چندر شیکھر نے اپنی امیدوار واپس لینے کااعلان کردیا، اس سے یہ بات ظاہر ہوگئی ہے کہ یڈیورپا نے اس سلسلے میں قائدین کی طرف سے ظاہر کئے گئے تمام خدشات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی من مانی کا مظاہرہ کیا اور کسی کو اعتماد میں لئے بغیر کانگریس رکن کونسل سی ایم لنگپا کے فرزند چندر شیکھر کو بی جے پی سے امیدوار بناکر میدان میں اتار دیا۔ بتایاجاتاہے کہ بی جے پی کے بیشتر قائدین نے یڈیورپاکو بتایاتھاکہ چندر شیکھر دراصل وزیر آبی وسائل ڈی کے شیوکمار کے قریبی حلقوں کے لوگوں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ ان سے کہاگیاتھاکہ چندر شیکھر کو بی جے پی میں ضرور شامل کریں ، لیکن ان کو ایسی کوئی ذمہ داری سونپی نہ جائے جو بھروسے کے قابل ہو۔ پارٹی میں شامل ہوتے ہی دوسرے دن یڈیورپانے چندر شیکھر کو رام نگرم حلقے سے پارٹی کا امیدوار قرار دیتے ہوئے بی فارم جاری کردیا۔ اب چندر شیکھر کے دغا کرنے کے بعد کہا جارہاہے کہ کچھ لیڈروں نے منظم سازش کے تحت چندر شیکھر کو بی جے پی میں شامل ہونے کا پلارٹ فارم فراہم کیاتھا۔ بتایا جاتاہے کہ اس سلسلے میں بی جے پی رکن کونسل تیجسوینی کو بھی نشانہ بنایا جارہاہے۔ اور کہا جارہاہے کہ تیجسوینی کے مشورے پر ہی یڈیورپانے چندر شیکھر کو بی جے پی میں شامل کرنے کی رضامندی ظاہر کی تھی۔ رام نگرم حلقہ جہاں بی جے پی کا کوئی سیاسی وجود نہیں ہے، یڈیورپا نے چندر شیکھر کی شمولیت سے یقین کرلیاتھاکہ ان کے ذریعے بی جے پی اس حلقے میں جیت نہ سہی کم از کم اپنی سیاسی موجودگی کا احساس ضرور دلاسکے گی۔ دوسری طرف امیدواری سے ہٹنے کا اعلان کرتے ہوئے چندر شیکھر نے الزام لگایا کہ انتخابی مہم چلانے کے لئے یڈیورپا سے بار بار درخواست کے باوجود انہوں نے کوئی توجہ نہیں دی، جس کے سبب انہیں امیدواری سے ہٹنا پڑرہاہے، اس دوران رام نگرم حلقے سے پارٹی امیدوار کے میدان سے ہٹ جانے ، منڈیا لوک سبھا حلقے کے ضمنی انتخاب کے متوقع نہج پر بی جے پی کی مہم نہ چلنے وغیرہ کا پارٹی کی ریاستی اور مرکزی قیادت نے سخت نوٹس لیا ہے اور پارٹی کے وکلیگا لیڈران خاص طور پر سابق نائب وزیراعلیٰ آر اشوک اور مرکزی وزیر سدانند گوڈا کو نشانہ بنایا جارہاہے۔ دوسری طرف وکلیگا فرقے سے وابستہ ہونے کے باوجود ان علاقوں میں جہاں وکلیگا فرقے کا غلبہ ہے وہاں انتخابی مہم چلانے کی طرف رکن پارلیمان شوبھا کارند لاجے کی عدم توجہی کا بھی سخت نوٹس لیا گیا ہے۔